ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سشیل کمار شنڈے ہوسکتے ہیں کانگریس کے قومی صدر!

سشیل کمار شنڈے ہوسکتے ہیں کانگریس کے قومی صدر!

Tue, 02 Jul 2019 11:00:23    S.O. News Service

نئی دہلی،2؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) لوک سبھا الیکشن میں شکست کے بعدسے ہی کانگریس صدر راہل گاندھی اپنے استعفیٰ پر بضد ہیں۔منانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔ کئی ریاستوں کی یونٹ سے استعفیٰ بھی آنے لگے۔ ان سب کے درمیان خبرہے کہ راہل گاندھی کی جگہ نئے صدرکی تلاش پوری ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مہاراشٹر یونٹ کے لیڈر سشیل کمار شنڈے کانگریس کے نئے صدرہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے سشیل کمارشنڈے کو فون کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سیشن کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلاکر اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔سونیا گاندھی کے بے حد قریبی لوگوں میں شمارکئے جانے والے سشیل کمارشنڈے یوپی اے دوراقتدارمیں کئی اہم عہدوں پررہ چکے ہیں۔ جب مہاراشٹر میں ان کے اورولاس راؤ دیشمکھ کے درمیان وزیراعلیٰ بننے کی قواعد شروع ہوئی تو پارٹی نے انہیں آندھرا پردیش کا گورنربنا دیا، لیکن انہوں نے ایک لفظ بولے بغیریہ عہدہ لے لیا۔اس کے بعد انہیں کانگریس کی حکومت میں مرکزی حکومت میں اہم عہدوں پربلایا گیا۔ شندے کوکبھی بہت زیادہ حرص والے شخص کے طورپر نہیں دیکھا گیا۔ ان کو لے کریہ عام خیال ہے کہ انہوں نے پارٹی کے اصولوں اوراحکام کے اوپرجاکرکبھی اپنی خواہشات کو حاوی نہیں ہونے دیا۔پولیس کی نوکری چھوڑ کرسیاست میں آنے کے بعد سشیل کمارشنڈے نے کبھی الٹ پھیرنہیں دیکھا۔ ان کی سیاسی اننگ اسمبلی الیکشن لڑنے سے ہوئی۔ وہ پانچ باراسمبلی کے رکن کے طورپرمنتخب ہوچکے ہیں۔ سال 1992 میں سشیل کمارشندے کو کانگریس نے راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ اس کے بعد شندے نے سال 1999 میں پہلی بارلوک سبھا الیکشن جیتا اورپارلیمنٹ پہنچ گئے-

اس سے قبل 2002 میں حالات ایسی بنی تھیں کہ شندے کو یوپی اے نے نائب صدرعہدہ کا امیدواربنا دیا۔ حالانکہ این ڈی اے کے امیدواربھیرو سنگھ شیخاوت سے وہ الیکشن میں ہارگئے تھے۔ اس کے بعد منموہن سنگھ حکومت میں سشیل کمار شندے کو مرکز بلا لیا گیا۔پہلے سال 2009 سے سال 2012 تک وہ ملک کے توانائی کے وزیربنے جبکہ یوپی اے کی دوسری مدت کارمیں وہ 31 جولائی 2012 سے 26 مئی 2014 تک مرکزی وزیرداخلہ رہے۔ اس کے علاوہ سشیل کمارشندے مہا راشٹرپردیش کانگریس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ حالانکہ سال 2014 اورسال 2019 دو بارسے انہیں عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


Share: